چترال شندور روڈ اور عوامی احتجاج
ٹھیکیدار ناقص اور غیرمعیاری کام کرنے کے باوجود بھی کام کی تکمیل کرنے سے قاصر ہے ایک اندازے کے مطابق بمشکل 6 کلومیٹر سڑک کی پختگی ہوچکی ہے اور وہ بھی ناقص اور غیر معیاری طور پر ہوچکی ہے جبکہ قومی خزانے سے اربوں روپے کی خطیر رقم خرچ ہو چکی ہے
"چترال شندور روڈ اور عوامی احتجاج"
تحریر : فتح اللہ
چترال شندور روڈ میں کام کی بندش اور بروقت تکمیل نہ ہونے اور ناقص تعمیر کو لیکر علاقہ کوہ کے عوام نے احتجاج کیے تھے۔ چترال شندور روڈ کو بلاک کرکے احتجاج ریکارڈ کرائ جس کے بعد ڈسٹرکٹ انتظامیہ کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کو مؤخر کیا گیا۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ پہلے سے تیار پختہ سڑک کو اکھاڑ کر اور نئی روڈ کی توسیع اور تعمیر کے نام پہ اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود یہ روڈ کھنڈر کا نمونہ ہے اور عوام کے لیے گردوغبار اور ماحولیاتی الودگی کے سوا کچھ نہ ملا۔ اگر متعلقہ محکمے اور پروجیکٹ کے متعلقہ ٹھیکیدار کے پاس مطلوبہ رقم موجود نہ تھی تو پہلے سے تیار پختہ سڑک کو کروڑوں روپے کی لاگت سے اکھاڑ کر کھنڈر بنانےکی کیا ضرورت تھی اس روڈ کی عدم تکمیل کی وجہ سے اپر چترال اور علاقہ کوہ کے لاکھوں باشندوں کو انتہائی تکلیف کا سامنا ہے روڈ کو کھنڈر میں تبدیل کرکے متعلقہ محکمے کے زمہ داران اور دونوں اضلاع کے انتظامیہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں عوام اس روڈ میں اذیت سے دوچار ہیں سکول کالجز اور یونیورسٹی کے طلباو طالبات گردو غبار میں لت پت ہوکر تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول ہیں جسکی وجہ سے انھیں صحت کے مسائل کا سامنا ہے اور ساتھ ہی عام عوام کو بھی انتہائی مشکلات کا سامنا ہے روزانہ محنت ومزدوری اور دیگر ضروریات زندگی کی انجام دہی کے سلسلے سفر کرنا پڑتا ہے اور کئی مسائل اور اذیت سے گزرنا پڑتا ہے پورے علاقہ گردوغبار سے لت پت ہے مکانات کھیت پانی کے چشمے دوکانین سب گروغبار کی ذد میں ہیں اور بے شمار ماحولیاتی مسائل پیدا ہورہی ہیں۔
اس کے باوجود اربوں روپے اس منصوبے کی نذر ہوچکی ہے متعلقہ ٹھیکیدار ناقص اور غیرمعیاری کام کرنے کے باوجود بھی کام کی تکمیل کرنے سے قاصر ہے ایک اندازے کے مطابق بمشکل 6 کلومیٹر سڑک کی پختگی ہوچکی ہے اور وہ بھی ناقص اور غیر معیاری طور پر ہوچکی ہے جبکہ قومی خزانے سے اربوں روپے کی خطیر رقم خرچ ہو چکی ہے
دونوں اضلاع کے انتظامیہ متعلقہ محکمہ کے زمہ داران اس روڈ کی برقت تکمیل میں مکمل طور پر بے بس ہیں اور متعلقہ ٹھیکیدار اس قدر مضبوط ہے کہ وہ چترال کے لیے مختص خطیر رقم کو ہڑپ کرنے پر تلا ہوا ہے اور عوام تنگ امد بجنگ امد کے مصداق سڑکوں پہ احتجاج کرنے پر مجبور ہیں عوام کی احتجاجی جلسے اور جلوس اور سڑک کی بندش کی وجہ سے پہلے سے مصیبت ذدہ عوام مزید مسائل اور مشکلات سے دوچار ہورہی ہیں۔
ضلعی انثظامیہ حکومتی اہلکار اور عوامی نمائندگان اس سلسلے میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہیں۔ حالانکہ یہ ضلعی انتظامیہ حکومتی اہلکار اور عوام نمائندگان کی فرض منصبی ہے کہ وہ ان عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کو بروقت اور معیاری طور پر تکمیل تک پنچا سکے اور عوام کےلیے بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ چترال میں جاری حالیہ عوامی احتجاج اور سڑکوں کی بندش حکومتی اہلکاروں عوامی نمائندگاں کی عدم دلچسپی اور اپنے کام سے مخلص نہ ہونے کا عملی ثبوت ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ متعلقہ محکمہ اور عوامی نمائندگاں متعلقہ ٹھیکیدار اور زمہ دار حکومتی اہلکاروں کے خلاف سخت ترین کاروائی کریں تاکہ ائندہ کے لیے اس قسم کی اداراجاتی کرپشن کا خاتمہ ہو اور چترال کے وسائل چترالیوں کی فلاح وبہبود پر خرچ ہو۔ورنہ ایک انتشاری معاشرہ جنم لے سکتی ہے جو لوگوں کے لیے پریشانی اور بدامنی کا باعث بن سکتی ہے اور علاقے میں ائے روز احتجاج اور سڑکوں کی بندش وقوغ پذیر ہوتے رہینگے اور ایک پرامن چترالی معاشرہ خواب بن جائیگا لہذا قبل ازوقت اصلاحی اور تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے اور لوگوں کو پر امن بقائے باہمی کے طورپر جینے کا حق دیا جائے یہ ہم سب کی اجتماعی اخلاقی اور ملی ذمہ داری ہے اور ہمیں اپنے حصے کا کام احسن طریقے سے کرنے کی ضرورت ہے اور معاشرے سے کرپشن کا حاتمہ ممکن بنانے میں مثبت کردار ادا کرسکے۔