کالاشا وادیوں میں لڑکیوں کی تعلیم: ایک محفوظ اور بہترین ادارہ، لیکن کیا سیاست تعلیم کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے؟
کالاشا وادیوں میں لڑکیوں کی تعلیم: ایک محفوظ اور بہترین ادارہ، لیکن کیا سیاست تعلیم کے مستقبل کو داؤ پر لگا رہی ہے؟
ایڈیٹوریل: اشپاتا نیوز
کالاشا وادیوں میں لڑکیوں کی تعلیم ہمیشہ سے ایک اہم موضوع رہا ہے۔ یہاں کے لوگ طویل عرصے سے ایک علیحدہ تعلیمی نظام کا مطالبہ کرتے آ رہے تھے تاکہ اسلامی اصولوں کے مطابق لڑکیوں کو بہتر اور محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے۔ حکومت خیبر پختونخوا نے اس مطالبے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے نہ صرف ایک ہائی اسکول تعمیر کیا، بلکہ ایک لڑکیوں کا ہائیر سیکنڈری اسکول بھی قائم کیا ہے۔ یہ اسکول وادی کی طالبات کے لیے ایک محفوظ اور معیاری تعلیمی ادارہ ہے جس میں تمام بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
یہ اسکول جدید تعلیم کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا گیا ہے، اور یہاں طالبات کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔ اسکول میں کافی تعداد میں کمرے اور کلاس رومز موجود ہیں، جن کی وجہ سے یہاں ہر طالبہ کو بھرپور تعلیمی توجہ مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسکول میں ہاسٹل کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے، جو دور دراز علاقوں سے آنے والی طالبات کے لیے بہت مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ اس تعلیمی ادارے کا قیام علاقے کی لڑکیوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اپنے علاقے میں ہی معیاری تعلیم حاصل کر سکیں اور ایک محفوظ ماحول میں اپنی تعلیمی ترقی کو ممکن بنائیں۔
تاہم، حالیہ دنوں میں کچھ لوگوں نے اس اسکول کو متنازعہ بنانے کی کوششیں شروع کر دی ہیں، جو کہ افسوسناک ہے۔ اس کے علاوہ، لڑکوں کے ہائیر سیکنڈری اسکول میں لڑکیوں کے داخلے کا اعلان بھی سامنے آیا ہے، جو کہ عوام کی خواہشات اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اگر لڑکیوں کے لیے علیحدہ تعلیمی ادارہ قائم ہو چکا ہے تو پھر لڑکیوں کو لڑکوں کے اسکول میں داخل کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ یہ عمل نہ صرف عوام کی امنگوں کے خلاف ہے بلکہ اس سے علاقے میں مزید اختلافات اور تقسیم کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے۔
اگر سیاسی مفادات کی خاطر ایسے تنازعات کو جنم دیا جاتا رہا تو اس کا نقصان صرف تعلیم کو ہو گا۔ جو لوگ لڑکیوں کی علیحدہ تعلیم کے حق میں تھے اور حکومت سے اس حوالے سے مسلسل مطالبات کر رہے تھے، آج وہی لوگ اس معاملے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ منافقت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ نہ صرف لڑکیوں کی تعلیم کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے، بلکہ اس سے علاقے میں مزید تقسیم اور انتشار کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔
حکومت خیبر پختونخوا نے اس اسکول میں نہایت قابل اور تربیت یافتہ اساتذہ کو مقرر کیا ہے جو طالبات کو بہترین تعلیم دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ یہاں پر موجود ہاسٹل کی سہولت سے بھی طالبات بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اب یہ وادی کے لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو اس محفوظ اور معیاری ادارے میں تعلیم دلوانے کا فیصلہ کریں۔ اگر اب بھی اس ادارے کو متنازعہ بنایا گیا تو اس کا مطلب صاف ہے کہ کچھ لوگ اپنے سیاسی مفادات کی خاطر تعلیم کو داؤ پر لگا رہے ہیں اور وہ حقیقت میں مخلص نہیں ہیں۔
ایک جائز اور معقول مطالبہ جو سامنے آ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ حکومت دور دراز علاقوں سے آنے والی طالبات کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرے۔ اس سے ان طالبات کے لیے تعلیم حاصل کرنا مزید آسان ہو جائے گا جو دور دراز علاقوں میں رہتی ہیں اور روزانہ سفر کرنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ لڑکیوں کا ہائیر سیکنڈری اسکول کالاشا وادیوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے، اور اب یہ علاقے کے لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ اس موقع سے کیسے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر لوگ اس تعلیمی ادارے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنی بیٹیوں کو یہاں تعلیم دلوانا شروع کرتے ہیں تو نہ صرف وادی کے لوگوں کی ترقی ہو گی بلکہ یہ ادارہ علاقے کی تعلیم و تربیت میں ایک نیا باب رقم کرے گا۔