"ضدی حکمران اور ضدی بیوروکریٹ" تحریر فتح اللہ

"ضدی حکمران اور ضدی بیوروکریٹ"

تحریر ؛ فتح اللہ

چترال لوئر میں ان دنوں ایک خالص عوامی ایشو کو لیکر دھرنے دئیے جارہے ہیں ایشو کا تعلق بیچارے غریب عوام سے ہے کہ چترال میں گولین گول میگا پروجیکٹ ،ریشن ہائیڈل پاور ہاوس، سنگور ہائیڈل پاور ہاوس، شیشی ہائیڈل پاور ہاوس اور اس کے علاوہ نجی تنظیمات کے تحت ببنے والے منی ہائیڈل پاور ہاوسز کے باوجود چترال کے بجلی کے صارفین 12 گھنٹے روزانہ لووڈ شیڈنگ کی مصیبت میں گرفتار ہیں عوام باقاعدگی سے بل بھی ادا کرتی ہیں اور چترال میں بجلی چوری بھی صفر ہے لیکن پھر بھی ضدی حکمران ضدی محکمے کے زمہ داران اور ضدی انتظامیہ اس بنیادی مسلے کو حل کرنے میں مخلص نہیں ہیں اور سیاسی نمائندے اور سول سوسائٹی کے افراد سر بازار دھرنے دینے پر مجبور ہیں کہ شاید کوئی ہو جو ان کی اس اصل مسلے کو مستقل بنیادوں پر حل کر سکے۔ مہذب معاشرے میں انسانوں کے بنیادی حقوق کو تخفظ حاصل ہے اور بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کو یقینی بنانے کےلئے حکمران محکمہ جات اور انتظامیہ کے افسران اور دیگر سرکاری اہلکار شبانہ روز کوشان رہتے ہیں اور عوام کو پرسکون طریقے سے جینے کا انسانی بنیادی حق دینے کو حکومتی اور انتظامی ترجیحات میں شامل کرتے ہیں اور وہی معاشرہ اور ملک ایک جمہوری فلاحی ملک ہونے کے دعوے میں حق بجانب ہوتے ہیں اور اقوام عالم میں ان کی مثال دی جا سکتی ہے لیکن مملکت خداداد پاکستان میں حکمرانوں ،بیوروکریسی اور انتظامیہ کو یہ اس بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اہمیت دینے کے بجائے ذاتی مفادات اور لگثری طرز زندگی گزارنے اور قومی وسائل کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرتے ہیں اور قومی وسائل کو بیدردی اور ذاتی منفعت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ضلع چترال اپنے جغرافیائی محل وقوغ کے لحاظ سے ایک اہم علاقہ ہے اس کی سر حدین افغانستان چین اور وسط ایشائی ممالک سے ملتی ہیں چترال ایک پر امن اور تہذیب وتمدن کے لحاظ سے ایک مثالی ضلع ہے یہان کے باسی پرامن مہذب اور احترام انسانیت کے اوصاف مزین ہیں اور مملکت خداداد پاکستان کے وفادار ہیں اور وطن کی دفاغ میں ان کا خون شامل ہے ایک پرامن شہری ہیں لیکن حکمرانوں اور محکمہ جات کی عفلت اور عدم دلچسپی اور اداراجاتی کرپشن کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر ہیں 77 سال بعد بھی چترال میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے سڑکین کھنڈرات کا نمونہ پیش کرتی ہیں اداراجاتی کرپشن اور کمیشن مافیاز کی بدولت چترال کے وسائل عوامی فلاح وبہبود کے کاموں کے بجائے ان کی ذاتی جیبوں میں چلی جاتی ہے چترال شندور روڈ لواری اپروچ روڈ گرم چشمہ روڈ کیلاش ویلی روڈ تورکہو روڈ، نہر اتھک ،خاندان لشٹ ایریگیشن چینل اور کئ دوسرے پروجیکٹ اس کے منہ بولتے ثبوت ہیں چترال شندور روڈ میں اربوں روپے خرچ کرکے عوام کھنڈر روڈ اور گردوغبار کے سوا کچھ نہ ملا۔ پہلے سے موجود پختہ سڑک کو کھنڈر بناکر قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پنچایا گیا اورفائدہ چند کمیشن مافیاز کو ملا۔ یہ بیوروکریسی اور حکمرانوں کی بد انتظامی کا منہ بولتا ثبوت ہے چترال میں قدرتی وسائل کی بہتات ہے بلندو بالا پہاڑ ہیں اس میں معدانیات موجود ہیں پانی کے وافر زرائیع موجود ہیں جن سے ہزاروں کہ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جنگلات کی دولت موجود ہے سیاختی مقامات کی بہتات ہے لیکن ان تمام کے باوجود حکمران ،محکمہ جات اور انتظامیہ کے اہلکار وں کی عدم دلچسپی عفلت اور بدیانتی کی وجہ سے چترال کے باسی مشکلات ومصائیب میں مبتلا ہیں ان میں سر فہرست بجلی کا مسلہ ہے جس کو لیکر سول سوسائٹی کے لوگ اور سیاسی قیادت دھرنے دینے پر مجبور ہے اور یہ تنگ امد بجنگ امد کے مصداق ہے اب وقت ہے کہ حکمران محکمہ جات کے سربراہان اور انتظامیہ کے زمہ دران اس اہم اور بنیادی انسانی مسلے کو ترجیحی اور پر امن طریقے سے حل کریں اور لوگوں کو پر امن اور پر سکون طریقے سے جینے کا موقع فراہم کریں ورنہ لوگوں کے دلوں میں ضدی حکمران اور ضدی انتظامیہ کے لیے نفرت کے جذبات ابھرینگے جو کہ پر امن اور مہذب معاشرے کی علامت نہیں ہے